بچے کہنا نہیں مانتے، کیا کریں؟؟

Spread the love

ٓآج کے پر آشوب دور میں لوگوں کو جن بڑے مسائل کا سامنا ہے ان میں سے ایک بڑا مسئلہ اولاد کا بگڑ جانا ہے۔اکژ والدین اس پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے “بچے بات نہیں مانتے، کیا کریں “۔۔۔۔کوئی کہتا ہے، “نوجوان اولاد بگڑ گئی ہے ان کو فرمانبردار کیسے بنائیں ” وغیرہ۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو آج کے دور میں تقریباََ ہر والدین کی زبان پر ہوتے ہیں۔گنتی کے چند گھرانے ایسے ہیں جہاں اولاد فرمانبردار ہے اور ما شاء اللہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ اگر خدا نا خواستہ آپ کی کوئی اولاد بگڑ گئی ہے تو اسے راہ راست پر لانا، اسے فرمانبردار بنانا ناممکن بات نہیں مگر اس کے لئے کئی ضروری اقدامات بہرحال ضروری ہیں۔ ہم یہاں ابتدائی طور پر چند تجاویزپیش کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو یہ تجاویز معقول لگیں تو اپنی رائے کا اظہار کیجئے تاکہ ہم اس مسئلہ کے حل کے لئے مزید تجاویز پیش کریں۔۔۔قارئین کرام! اگرغیر جانب دار ذہن کے ساتھ آپ غور و فکر اور تجزیہ کریں تو آپ پر یہ بات منکشف ہو گی کہ فی الوقع ہم ڈیلنگ کے صحیح طریقوں پر عمل نہیں کرتے۔ یہ بات اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جو اصول اور ضابطے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے متعین کئے ہیں ان میں ہمارے لئے ہر لحاظ سے فلاح اور خیر موجود ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہم ان قواعد و ضوابط کی طرف رجوع نہیں کرتے۔
اولاد کو فرمانبردار بنانے کے لئے آپ کو محنت،حوصلہ اور صبر کی ضرورت ہو گی۔آپ کو برداشت سے کام لینا پڑے گا۔سب سے پہلے تو آپ کو اس کا ہمدرد بننا ہو گااس کا اعتماد حاصل کرنا ہو گا پھر اسے بہت حکمت اور دانشمندی سے اچھی اور کارآمد باتوں کی تلقین کرنی ہو گی۔ واضح رہے کہ اگر آپ نے سختی سے کام لیا تو سب کچھ بے اثر ثابت ہو سکتا ہے۔اس لئے آپ کوایثار سے کام لینا ہو گا، اپنے رویہ میں تبدیلی کرنی ہو گی اور بہت نرمی سے پیش آنا ہو گا۔ عموماَ ہم یہ غلطی کر جاتے ہیں کہ ہمیں جب بھی بچوں کو کچھ سمجھانا ہوتا ہے، ہمارے لہجے میں سختی آجاتی ہے۔ہمارا انداز حاکمانہ ہوتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ بچو ں کو آرڈر دیا جا رہا ہے کہ آپ کو ایسا لازمی کرنا ہے۔۔۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ سمجھاتے وقت ہمارا انداز شفقت آمیز ہونا چاہئے۔نصیحت کے وقت چہرے پر مسکراہٹ اور لہجے میں نری ہو تو بات دل میں اترجاتی ہے۔ تاہم بچوں کی تربیت میں بعض معاملات میں قدرے سختی بھی ناگزیر ہو سکتی ہے مگر ہمیں یہ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ سختی کس صورتحال میں اورکس نوعیت کی کرنی ہے۔ اولاد کے ساتھ اچھی ڈیلنگ والدین کا اہم ترین فرض ہے۔ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ والدین کو بچوں کے ساتھ ڈیلنگ کرتے وقت بچوں کی نفسیات کو مدنظر رکھنا چاہئے۔بدقسمتی سے بیشتروالدین اس طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔چنانچہ عام مشاہدہ کی بات ہے کہ اکثر گھروں میں والدین بچوں کو بات بے بات پر ڈانٹتے ہیں اور چیخ وپکار سے کام لیتے ہیں۔بچوں کو معمو لی سی غلطی پربار بار ڈانٹنا اور سختی سے پیش آنا ایسا طرزعمل ہے جو والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے پیدا کرتاہے اور یہ طرزعمل جنریشن گیپ کا بہت بڑا سبب بھی ہے۔ یہ اصول بھی ذہن نشین رکھیں کہ کسی چیز کے بگڑنے کے بعد جتنا زیادہ وقت گزر چکا ہوتا ہے اس کی اصلاح میں اسی قد ر زیادہ وقت لگتا ہے۔لہذا آپ کو حکمت والی تدبیروں کے ساتھ صبر بھی کرنا ہو گا۔پھر ساتھ ہی اللہ سے اس کی اصلاح اور راہ راست پر آنے کی دعا بھی کرنی ہو گی۔۔۔ چلیں اب بات کرتے ہیں کہ اولاد کی تربیت کا درست طریقہ کیا ہے؟ یا اولاد کی تربیت کا آغاز کب کرنا چاہئے؟۔۔۔! سب سے اہم بات یہ ہے کہ اولاد کی تربیت کاآغاز شروع دن سے ہی کر دینا چاہئے۔ ماہرنفسیات کہتے ہیں کہ ابتدائی 3 سال تربیت کے لحاظ سے بہت اہم ہوتے ہیں۔اگر آپ ابتدائی 3 سالوں میں تھوڑی سی محنت کر لیں تویہ کام بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ نیک انسان بنے تو آپ ان 3سالوں میں محنت کر لیں۔ آپ کو یہ بات شائید بہت عجیب لگے مگرحقیقت یہی ہے کہ جس لمحہ آپ والدین کے اہم عہدے پر فائز ہوتے ہیں اسی لمحے سے بچوں کی تربیت کے حوالے سے آپ پر نہایت اہم زمہ داری نافذ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ والد اور والدہ دونوں پر لازم ہے کہ آپ بچے کی تربیت کا آغاز پیدائش کے اول دن سے ہی شروع کر دیجئے۔اپنے بچے کو وقتا فوقتاَ َ گود میں لے کر بہت پیار سے بہت نرمی سے ہلکا ہلکا اسے اللہ رسول کی پہچان دلوائیں۔دن کے مختلف اوقات میں بار بار اس کے سامنے دوہرائیں کہ اللہ ہی ہما را خالق ہے، اللہ ہی ہمارا مالک ہے اور وہی ہمیں کھلاتا ہے وہی ہمیں پلاتا ہے۔اسی طرح کی اور دوسری چھوٹی چھوٹی باتیں ننھے بچے کے ذہن نشین کرائیں۔اس سے کیا ہو گا۔۔۔؟اس سے بچے کے ذہن میں ایک پیٹرن بنے گا اور اس کی بنیاد میں پیغمبرانہ صفات کا عکس ہلکا ہلکا جذب ہو گا۔یاد رکھئے! نوزائیدہ بچہ ایک خالی سلیٹ کی مانند ہوتا ہے۔اگر آپ اس پر محنت کر کے مثبت طرزفکر کی بنیاد ڈالیں گے تو وہ یقینا اچھا انسان بنے گا لیکن اگر آپ نے اس جانب خصوصی توجہ نہیں دی تو اس کے بگڑنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں کیوں کہ ماحول میں بہت زیادہ منفی طرزعمل کا عکس موجود ہے۔عموماََ لوگ اس طرف سے غافل رہتے ہیں یا اس حوالے سے جتنا اہتما م کرنا چاہئے اتنا نہیں کرتے۔ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت مضبوط نہیں بنتی۔ یعنی اگر بنیاد میں کمزوریاں رہ جائیں اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا جائے اور بعد میں عمارت کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے تو ہزار کوشش کے باوجود بھی وہ عمارت اس طرح مضبوط اور مستحکم نہیں بنتی جتنی مضبوطی ٹھوس اور مستحکم بنیادوالی عمارت میں ہوتی ہے۔بالکل یہی معاملہ بچوں کی تربیت کا ہے، ان کو اچھا انسان بنانے کا ہے۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر ہم نے اولاد کی اچھی تربیت نہیں کی اسے اچھا انسان بنانے کے لئے کوششیں نہیں کیں تواللہ تعالیٰ کے دربار میں ہماری پکڑ ہو سکتی ہے۔ گویا کہ اولاد کی تربیت کا معاملہ آپشنل یا اختیاری نہیں ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ انسان چاہے تواولاد کی اچھی تربیت کرے چاہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دے۔ بلکہ یہ اہم ترین ذمہ داری ہے اور ہمیں چاہئے کہ ہزار مصروفیات کے باوجود بھی اس کا اہتمام لازمی کریں۔
اگر آپ بچوں کی بہت اچھی تربیت کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ ہر لحاظ سے صحت مند رہے، اس کی تمام صلاحیتیں عروج پر ہوں اوروہ زندگی کے ہر میدان میں ایسے کارنامے سرانجام دے کہ نہ صرف آپ کا خاندان بلکہ پوری قوم اسے سلام کرے، تو اس حوالے سے کوششوں کا آغاز آپ کو بچے کی پیدائیش سے بھی پہلے سے کرنا ہو گا۔ قدرت کا قا نون ہے کہ اس دنیا میں آنے سے پہلے بچہ 9 مہینے اپنی والدہ کے پیٹ میں گزارتا ہے۔ ما ہرین، تجزیہ نگار اور ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ بچے کی بہترین نشو ونما کے لئے اور بچے کو بھرپور صلاحیتوں کا حامل بنانے کے لئے آپ کو اس 9 مہینے کے مخصوص مدت میں اس بات کا خصوصی اہتمام کرنا ہو گا کہ اس پورے عرصے میں بچے کی والدہ کو کسی بھی حوالے سے، کسی بھی زاویے سے ذرا سا بھی ٹینشن نہ پہنچے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ماں کو ذرا سی بھی پریشانی، صدمہ یا ذہنی اذیت پہنچائی گئی تو اس کا براہ راست اثر بچے پر ہوتا ہے۔بہت ضروری ہے کہ گھر کا ماحول پرسکون ہو،ماں کی خوراک کا بھی خصوصی خیال رکھا جائے اور اس سلسلے کی دیگر ہدایات ڈاکٹرز سے پوچھ کر ان پر پابندی سے عمل کیا جائے۔یہ بات بھی نوٹ کر لیں کہ موبائل فون کی شعاعیں ایک خاص نوعیت کی ہوتی ہیں اور بہت ہی پاورفل ہوتی ہیں،ماہرین کی رائے ہے کہ اس مخصوص مدت میں والدہ کو موبائل فون سے دور رہنا زیادہ بہتر ہے، صرف خاص ضرورت کے تحت موبائل استعمال کریں۔ موبائل کا کثرت سے استعمال پیدا ہونے والے بچے کے لئے نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔ اگراس مخصوص مدت میں ماں کا ذہنی انہماک ز یادہ ترایسی باتوں کی طرف مائل رہے جو اللہ اور اس کے حبیب حضرت محمدﷺ نے پسند فرمائے ہیں تو اس با ت کا قوی امکان ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ نہ صرف پاکیزہ اوصاف کا مالک ہو گا بلکہ عام بچوں کے مقابلے میں زیادہ باصلاحیت اور بہت ذہین ثابت ہوسکتا ہے جو آگے چل کر بہت نمایاں کرنامے سر انجام دے سکتا 1۔ بچوں ں
بچوں کو فرمانبردار بنانے کے لئے درج ذیل تجاویز کارآمد ہو سکتی ہیں:۔

بچوں کو فرماںبردار بنانے کے حوالے سے تجاویز


بچوں پر حاکم بننے کے بجائے دوستانہ رویہ اختیار کریں۔ انہیں بہت پیار اور نرمی سے اچھی باتیں بتائیں۔۔ ۔ سخت لہجے میں نصیحت بے اثر رہتی ہے۔
2۔بچوں کے سامنے کبھی بھی بچے کی والدہ کو برا نہ کہیں۔ بیوی سے اگر کوئی غلطی ہو بھی جائے تو اس کا اظہار بچوں کے سامنے نہ کریں۔اسی طرح بیوی کا بھی فرض ہے کہ اگر ان کو شوہر میں کوئی خامی نظر آئے تو اس کا اظہار بچوں کے سامنے نہ کریں۔جو والدین بچوں کے سامنے شریک حیات کی شکایت کرتے ہیں وہ بچوں کی نظر میں گر جاتے ہیں۔
ٌ3۔جس بات کی نصیحت آپ بچوں کو کرنا چاہتے ہیں پہلے خود اس پر عمل کریں، ورنہ نصیحت بے اثر رہے گی۔ یاد رکھئے! بچہ آپ کی تمام حرکات و سکنات کا جائزہ لے رہا ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر اگر والد صاحب چاہتے ہیں کہ بچہ جھوٹ نہ بولے تو پہلے ان کو خود جھوٹ سے مکمل پرہیز کرنا ہوگا۔
4۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ آپ کی عزت کرے،تو پہلے آپ کو اپنے والدین اور بڑوں کی عزت کرنی ہو گی۔ اگر آپ اپنے والدین کے سا تھ سخت لہجے میں بات کریں اور بچے سے امید کریں کہ وہ آپ کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آئے توایسا ممکن نہیں ہے۔
5۔ بچہ فطرت کے قوانین پر سختی سے عمل پیرا ہوتا ہے، لہذابچے کو اچھا انسان بنانے کے لئے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ خو اچھے انسان بن جائیں۔یاد رکھئے! بچہ والدین کو رول ماڈل سمجھتا ہے۔لہذا آپ کو کافی ایثار کرنا ہوگا۔ آپ کو خود مثبت طرزفکر اختیار کرنا ہوگا اور تمام منفی طرزعمل سے پرہیز کرنا ہوگا۔
6۔ جن گھرانوں میں والدین مثبت سوچ کے مالک ہوتے ہیں اور اخلاقی قدروں کا احترام کرتے ہیں وہاں بچوں کی تربیت پر زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اچھی باتوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
(آمین یا رب ا لعالمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *