نیا

Spread the love

ملک کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار
————————————–

نوجوان ہرقوم کابےحد قیمتی اثاثہ ہوتےہیں، قوم کا مستقبل انہی کے ساتھ وابستہ ہوتاہے۔ یہ قوم کےلئےریڑھ کی ہڈی کی مانندہوتے ہیں۔ ان کا عزم مضبوظ اور حوصلہ بلند ہوتا ہے۔ اُن کی رگوں میں گرم خون ہوتا ہےاور ان کے جذبوں میں سمندر کی سی طغیانی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ جب کوئی قوم اپنے اس اثاثے کی قدر کرتی ہے، اس کی تربیت کا خاص اہتمام کرتی ہےاوراسے بہترین انداز میں پروان چڑھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے تواس قوم کی ہر لحاظ سےترقی یقینی بن جاتی ہے۔ گویا کہ معاشرے کی تعمیراور ترقی میں نوجوانوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ نوجوانوں کی تربیت اگراس طرح کی جائے کہ ان کی شخصیت مثبت سوچ،اعلیٰ کرداراور اللہ کی مخلوق کی خدمت کے جذبے سے سرشارہوتویقینی طورپریہ ذمہ دار شہری ثابت ہوتےہیں . پھر ایسے افراد اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتے ہیں اوران کا تعلق معاشرے کےخواہ کسی بھی شعبے سے ہووہ ہر جگہ ایک خاص انداز سے پہچانے جاتے ہیں اور اپنی شاندار کامیابی کا لوہا منواتے ہیں. مثبت انداز میں تربیت یافتہ نوجوان زنگی میں ایسے کارنامے سرانجام دیتے ہیں کہ وہ نہ صرف اپنے خاندان کے لئے بلکہ اپنے ملک و قوم کے لئے بھی فخر کا باعث ہوتےہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کل آبادی کا تقریباََ نصف حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہاں 15 سے 30 سال کی عمر کے افراد کی تعداد تقریباً 40 فیصد سے زائد ہے اور یہ بات بالکل عیاں ہے کہ یہی نوجوان نسل آگے چل کر ملک کی قیادت سنبھالے گی۔ چنانچہ تمام والدین، اساتذہ کرام اور بزرگوں کا فرض بنتا ہےکہ نوجوانوں کوذمہ داری کا احساس دلانے، ان کے اندرروشن خیالی پیدا کرنے اور ان کو معاشرے کا بہت فعال رکن بنانے کے لئےانہیں درست سمت میں رہنمائی فراہم کریں۔ نوجوانوں کی ذہن سازی اور تربیت بہت مٹھاس، پیاراور حکمت کے ساتھ کریں۔ وہ اگرتھوڑا سا بھی مثبت کام کرٰیں تو آپ انہیں ضرور سراہیں، ان کی حصلہ افزائی فرمائیں ۔ اس بات کو پیش نطر رکھیں کہ یہ ہمارے لئے قیمتی سرمایہ ہیں۔ ہم جب نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں گے، ان کی ذہن سازی بہترین انداز میں کریں گے تب ہی معاشرہ مضبوط ومستحکم ہو گا اور تب ہی ملک ترقی پزیرممالک کی صف سے نکل کرترقی یافتہ ملکوں کی صف میں داخل ہوگا۔ سب جانتےہیں کہ اگر جڑ کمزور ہو تودرخت توانا نہیں ہو سکتا۔ لہذابہت ضروری ہے کہ نوجوانوں کی بہترین تربیت کا خصوصی اہتمام کیا جائے، انہیں ہرمعاملے میں اورہرزاویے سے بہترین رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ ان کی شخصیت بھرپور طریقے سے نکھر کر سامنے آئے۔ اور خدا نا خواستہ اگران میں کوئی خامی نظر آئے تو بڑی حکمت اور دانشمندی کے ساتھ ڈیلینگ کی جائے ۔ خامییوں کااظہار اس طرح سے نہ کیا جائے کہ ان کی دل آزاری ہو بلکہ غوروفکر کے ساتھ نرمی، محبت اور حکمت کے ساتھ ڈیلنگ کی جائے۔ مختصر یہ کہ ان کی رہنمائی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں کی جائے۔ آج کے دور میں تربیت کی بہت کمی ہے۔ اخلاقی قدریں نہایت تیزی سے پامال ہورہی ہیں۔ لہذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم بچوں کی تربیت کا خصوصی اہتمام کریں۔ آج کے بچے ہی کل کے جوان ہیں اگر ان کی تربیت صحٰیح خطوط پر نہ ہوئی تو آنے والی نسلوں کی اخلاقی حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔ اگر آ پ تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ پر یہ راز منکشف ہو گی کہ جن قوموں نے اس عظیم سرمایہ کی قدر کی، اسے بنایا ، سنوارا،نکھارا اور پھرحکمت اور دانشمندی کے ساتھ اسے صحیح سمت پر گامزن کر دیا وہ عروج پر پہیچ گئیں ۔ اگرہم بھی نوجوانوں کو اچھا انسان بننے میں تعاون کریں، ہر طرح سے ان کی حوصلہ افزائی کریں،انہیں صحیح اورغلط کا درست تصور واضح کریں، ان کے اندر دوسروں کے دکھ ، درد محسوس کرنے کا جذبہ بیدارکریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسے نوجوان جب کل لیڈر بنیں گے توضروروہ عوام کے دکھ درد کو سمجھنے والے ہوں گے، اللہ کی مخلوق کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھنے والےہوں گے اورپھر یقیناََہمارے ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔ ایسی خوش حالی جو خلفائے راشدین کے دورحکومت میں تھی ۔

اگر ہم دنیا میں خوش حالی اور کامرانی چاہتے ہیں اور آخرت میں اللہ کے سامنے سرخرو ہونا چاہتے ہیں توہمیں خود بھی قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا گااوراپنے نوجوانوں کی شخصیت کو بھی قرآن حکیم کی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنا ہو گا ۔

نوجوانوں کے لئےبہت ضرری ہے کہ وہ ابھی سے یعنی اپنی نوجوانی کی عمر سے ہی وقت کا درست استعمال کریں۔ اپنی شخصیت کو سنوارنے میں ابھی سے مصروفِ عمل ہو جائیں۔ بعض نوجوان سوچتے ہیں کہ ابھی تو بہت عمر پڑی ہے، بعد میں خود کو سنوار لیں گے۔ یہ سوچ درست نہیں ۔ کسی بڑے دانشور کا قول ہے کہ اگر آپ ترقی اورکامیابی چاہتے ہیں تو اس کی کوششیں آج سے شروع کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ “جو کرنا ہے کر ڈالو، یہ مت کہو کہ آج نہیں کل، اگر آج نہیں کیا توپھر کبھی نہیں کر پاؤگے۔” اس قول کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کا نفس آپ کو بہکائے گا کہ ابھی تو بہت وقت پڑا ہے بعد میں اچھے کام کر لیں گے۔ لیکن چونکہ صاحب بصیرت اوردانشور لوگ تجربہ رکھتے ہیں اس لئے وہ ہمیں تلقین کرتے ہیں کہ “آج کا کام کل پر مت ٹالو” گویا کل پر ٹالنا خود کو کامیابی کی طرف جانے سے روکنا ہے۔ اس لئے آپ آج ہی سے جدوجہد اور کوششوں کا کچھ نہ کچھ آغاز کر دیجئے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ کام چاہے تھوڑا کرو مگرمسلسل کرو، کامیابی ملے گی۔ ۔ ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بے انتہا صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ آپ کے دل ودماغ میں توانائیاں عروج پر ہیں۔ آپ کے اندر قدرت کی طرف سےہمت اور جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ آپ میں بہت کچھ کرنے کا جنون پایا جاتا ہے اور آپ کے اندرکٹھن حالات کا جواں مردی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ غرض کہ قدرت نے آپ کواس قدرصلاحیتیں عطا فرمائی ہیں کہ جن کا شمارکرنا محال ہے۔ آپ جو چاہیں با آسانی کرسکتے ہیں۔ ۔ ۔ اس کے لئے آپ کو کیا کرنا ہو گا؟ اس کے لئے آپ کو کرنا یہ ہو گا کہ جو کچھ آپ کرنا چاہتے ہیں پہلے اس کا ایک ہدف یا ٹارگیٹ مقرر کریں۔ پھر آپ مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھیں اور مستقل مزاجی اور لگن کے ساتھ ٹارگیٹ کے حصول میں لگ جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ ناکام رہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ مثبت طرزفکر کو اپنا شعار بنائیں۔ کیوں کہ مثبت طرزفکرکے اپنانے سے نہ صرف آپ کے گھر اور آپ کے معاشرے میں خوشحالی آئے گی بلکہ یہ طرزفکراللہ کی قربت کا ذریعہ بھی بنے گی اور آپ کو قدم قدم پراللہ کی مدد بھی حاصل ہو گی۔ مثبت طرزفکر کیا ہے؟ مثبت طرزفکر یہ ہے کہ انسان سب کی خیرخواہی چاہے، کسی کے لئے برا نہ چاہے، کسی کو کمتر نہ سمجھے، کسی کی تذلیل نہ کرے، کسی کی حقتلفی نہ کرے۔ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔ آپ کے اندر اللہ نے اس قدر صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں کہ آپ اگر چاہیں تواپنے معاشرے میں عظیم انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی شخصیت میں اعلیٰ صفات پیدا کر کے دنیا کے لئے روشن مثال بن سکتے ہیںں ۔ آپ کے لئے بہت ضروری ہے کہ اپنے والدین کا کہنا مانیں، ان کی فرمانبرداری کریں۔ ان کے آرام کا خیال رکھیں۔ والدین کےساتھ ہمیشہ بہت ادب اوراحترام سے پیش آئیں۔ والدین کے علاوہ گھر میں دیگر افراد کا بھی بہت احترام کریں۔ اپنی بات چیت میں اچھے الفاظ اور دھیمہ لہجہ استعمال کریں، گالم گلوچ اور نازیبہ الفاظ استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ اچھی گفتگو کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔ آپ اپنی شخصیت میں وہ تمام خوبیاں پیدا کیجئے جوایک اچھے انسان میں ہونا ضروری ہیں۔ اسلئے لازم ہے کہ آپ کے اندر نرمی ہو، لہجے میں مٹھاس ہو، ضبط ہو، برداشت ہواورغصہ پر کنٹرول ہو۔ یہ بھی لازم ہے کہ آپ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ آپ غور کریں کہ آپ کی ذمہ داریاں کون کون سی ہیں۔ اگرآپ کو نہیں معلوم تو آپ گھر کے بڑوں سے پوچھ لیں اور پھر انہیں احسن طریقے سے نبھانا شروع کر دیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سارے نوجوان دوستوں میں بہت وقت گزارتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ دوستوں سے نہ ملیں، ضرور ملیں مگربہت ضروری ہے کہ آپ جائزہ لیں کہ آپ کا دوست کس سوچ کا مالک ہے۔ بزرگوں کا قول ہے کہ انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ یعنی جس قسم کے دوستوں میں انسان اٹھتا بیٹھتا ہے وہ اسی رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے۔ لہاذاآپ ہمیشہ ایسے دوستوں کا انتخاب کیجئے جو مثبت طرزفکر کے حامل ہوں، مخلص ہوں اور اچھے طور طریقوں پرعمل پیرا ہوں۔ دوستی میں اعتدال کو پیش نظر رکھئے۔ دوستوں میں اتنا وقت نہ گزاریں کہ آپ کی ذمہ داریاں متاثرہونے لگیں۔ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد باہردوستوں میں گھنٹوں وقت گزارتی ہے۔ ان میں زیادہ ترایسے نوجوان ہوتے ہیں جو اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہتے ہیں۔ ان کے والدین ان کے اس روش سے بہت پریشان رہتے ہیں کیوں کہ اس طرزعمل سے نہ صرف ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے بلکہ گھرکے نظام میں بھی خلل واقع ہوتا ہے۔ لہذا آپ سے گزارش ہے کہ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے میں اعتدال سے کام لیں۔ اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں. آپ کے والدین آپ کی تعلیم اور آپ کے روشن مستقبل کے لئے بہت فکرمند رہتے ہیں. وہ چاہتے ہیں کہ آپ تعلیمی میدان میں شاندارکارکردگی دکھائیں. لہذا اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دیجئے. موبائل فون اور انٹرنیٹ کو مثبت طرزوں میں اعتدال کے ساتھ استعمال کریں. ایسی تمام سرگرمیوں سے اجتناب کریں جواللہ کے نذدیک ناپسندیدہ ہیں. اس وقت ہم ای دنیا میں جی رہے ہیں، تقریباََ ہرشخص انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ساتھ منسلک ہے۔ بہت سارے لوگ اپنے وقت کا بہت بڑا حصہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی نذر کر دیتے ہیں جس کے باعث صحت مند سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں. ذہنی امراض کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کثرت سے موبائل استعمال کرنے کے نتیجے میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد ذہنی دباؤاورطرح طرح کی عجیب و غریب بیماریوں کا شکار ہو گئی ہے ۔ آپ کو زندگی میں بہت کچھ کرنا ہے ۔ لہذا آپ انٹرنیت اور موبائل کو محدود طریقے سے اور مثبت طرزوں میں استعمال کیجئے۔ یاد رکھئے! صحت مند جسم اور صحت مند دماغ دونوں اچھی شخصیت کے لئے لازم عناصرہیں ۔ ایک اور بہت ضروری بات یہ ہے کہ آپ کوشش کر کے جھوٹ سے مکمل پرہیزکرلیں کیوں کہ جھوٹ کو تمام برائیوں کی جڑ کہا گیا ہے۔ آج ہی سےاچھی عادتوں کو اپنانا شروع کیجئے اور بری عادتوں کو رفلتہ رفتہ ترک کر دیجئے۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی نہ کریں۔ یعنی یہ مت سوچیں کہ سب ہی اپنی من مانی کر رہے ہیں تو ہم کیوں اچھی سوچ اپنائیں؟ یاد رکھئے کہ لوگوں کی اکثریت گمراہی میں مبتلا ہے لہاذا آپ زندگی کو سوچ سمجھ کر گزارئیے۔ اب تک جو ہو چکا اس کے لئے اللہ پاک سے معافی مانگ کر آج سے بلکہ ابھی سے ایک نئی زندگی کا آغاز کیجئے۔ آپ ایک ایسی مثال قائم کیجئے کہ آپ کی شخصیت دوسروں کے لئے مشعل راہ بن جائے۔

اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصرہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ارادوں کو مستحکم فرمائے۔ اور اللہ پاک آپ کی شخصیت کو ایسا روشن ستارہ بنائے کہ آپ کی شخصیت نہ صرف آپ کے خاندان کے لئے بلکہ پوری قوم کے لئے ایک تابندہ مثال بن جائے۔
( آمین۔ یا رب العالمین۔)
#DevelopmentQuote#MotivationalAndInspirationalQuote,
#نوجوان 
#تربیت 
http://bit.ly/2Yjt6NZ

وجوانوں کی بہترین تربیت کیسے کی جائے، یہ جاننے کے لئے آپ کوقرآن حکیم سے رجوع کرنا ہو گا۔ کیوں کہ اگر ہم کسی کی تربیت کے لئے اپنے ذہن سے طریقہ کار وضح کریں گے تو ہو سکتا ہے اس میں کوئی خامی ہولیکن قرآن حکیم ایک ایسی مستحکم اور جامع دستاویزہے  جس میں زندگی کے ہرپہلو کے بارے میں مکمل رہنمائی موجود ہے۔  کیوں کہ جب بھی انسان اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کوتاہی کرتا ہےتو، توازن کا نظام متاثر ہوتا ہے

اضافی

اگر آ پ تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ پر یہ راز منکشف ہو گی کہ جن قوموں نے اپنے اس عظیم سرمایہ کی حفاظت کی، بھر پور انداز میں اسے پروان چڑھنے کے مواقع فراہم کئے اور پھر انہیں درست طریقے سے utilize کیا انہوں نے بڑی ترقی کی۔ ۔

المیہ یہ ہے کہ قدرت نے ہمیں یہ سرمایہ کثرت سے عطا فرمائی ہیں مگر ہم شائید اس سرمایہ کو ٹھیک طرح استعمال نہیں کر رہے۔ جن قوموں نے اس پر تفکر کیا بنایا ، سنوارا،نکھارا اور پھر صحیح سمت میں استعمال کیا وہ عروج پر پہیچ گئیں۔ ہم بھی اس عظیم سرمایہ کو ٹھیک طرح استعمال کرکے اپنے ملک کو ترقی یافتہ ملک بنا سکتے ہیں۔ا س کے لئے باقائدہ پلاننگ کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ اس پرلاننگ کسے کی جائے یا اس سلسلے میں کون کون سے اقدامات کرنے ہوں گے اس کی تفصیل ہم آنے والے مضامین میں درج کریں گے۔ آئیے اس بات کو زیادہ وضاحت سے سمجھنے کے لئے ایک مثال پر غور کرتے ہیَ

لہاذااپنی صحت کا بھی خاص خیال رکھئے. اچھی صحت کے لئے ضروری ہے کہ آپ کھانا وقت پر کھایا کریں۔ بہت سارے بچے اور نوجوان کھانا وقت پر نہیں کھاتے. ان کی یہ روش بھی والدین کے لئے پریشانی کا باعث رہتی ہے. نوجوانی کی عمرایسی عمر ہوتی ہے کہ انسان کھانا وقت پرنہ بھی کھائے تب بھی بظاہرکوئی نقصان نظر نہیں آتا کیوں کہ اس عمر میں انسان کے جسمانی اور اعصابی دونوں نظام بہترین اندازمیں کام کررہے ہوتے ہیں لیکن بہرحال وقت پر کھانا نہ کھانے کے کچھ نہ کچھ منفی اثرات جسم پر پڑ رہے ہوتے ہیں جو بعد میں رونما ہوتے ہیں. لہذا کھانا وقت پر کھایا کیجئے گھر میں جو بھی پکے خوش ہوکرکھائیں، اللہ کا شکر ادا کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *